بھٹکل11:؍جولائی (ایس اؤ نیوز) قومی شاہراہ کے مسائل سنگین ہوتے دیکھ کر بنگلورو سے بھٹکل پہنچنے والے ضلع نگراں کار وزیر منکال وئیدیا نے جب ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو ٹول فیس بندکرنےکی ہدایت دے ڈالی تو انتظار میں بیٹھے بھٹکل کے عوام نے راحت کی سانس لی کہ ہائی وے سے جو پریشانی ہورہی ہے، کم ازکم ٹول بند کرنے سے کچھ تو سکون ملے۔
شہر بھٹکل سے صرف11 کلو میٹر کی دور ی پر واقع شیرور ٹول گیٹ یہاں کے عوام کے لئے بوجھ بن گیا ہے۔ ضلع کی سرحد پر واقع بھٹکل کےعوام روزمرہ کے کاموں کےلئے شیروراور کنداپورآتے جاتے رہتے ہیں لیکن انہیں ٹول فیس میں کسی طرح کی کوئی رعایت نہیں ہے۔ صرف ٹول گیٹ کے 5 کلو میٹر کے دائرے میں رہنے والے لوگوں کو ہی ٹول فیس سے رعایت دی گئی ہے، جس سے بھٹکل کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ ان سب کے علاوہ قومی شاہراہ کا تعمیراتی کام گذشتہ 10سالوں سے بھٹکل والوں کو ہراساں کرتارہاہے، عوام کو بہت بڑا خواب دکھا کر موجود شاہراہ کی کھدائی ہی ایک بہت بڑا کارنامہ بن گیا ہے۔ قومی شاہراہ فورلین کا اجراء ہوکر دو برس بیت رہے ہیں بھٹکل کے تنگنگنڈی کراس سے پُرورگا تک کا تعمیراتی کام ابھی تک ادھورا پڑا ہے۔ سرویس روڈ جانے دیجئے، کم سےکم قومی شاہراہ کے کنارے سہولت والی اچھی نالیوں کاکام تک نہیں ہواہے۔ بھٹکل کے رنگین کٹہ سے منکولی تک قومی شاہراہ خستہ حالی کا شکارہے۔ بارش کی وجہ سے شاہراہ کے بیچ ہی کھڈے پڑگئے ہیں ، بارش کا پانی شاہراہ پر بہتا رہتاہے گویا شاہراہ ہی نالی بن گئی ہو، عوام کا سوال یہی ہے کہ ایسی ابتر شاہراہ پر بھٹکل کے عوام ٹول فیس ادا کریں تو کیوں کریں ؟
ٹھیکیدار کمپنی نے کروڑوں لوٹاہے :ایسا لگتاہے کہ آئی آر بی کمپنی نے بھٹکل سمیت اترکنڑا ضلع کی قومی شاہراہ کی تعمیر کاٹھیکہ لوٹنے کےلئے ہی لیا ہوگا۔ شاہراہ کی توسیع کے لئے جھلی چاہئے تو کمپنی نے اس کے لئے پہاڑوں کوہی کھودا ہے، اگلے 15-20 برس تک جتنی جھلی چاہئے وہ سب آئی آر بی کمپنی کی تحویل میں ہے جن سے اُنہیں کروڑوں روپیوں کا نفع حاصل ہوگا۔ اس کے علاوہ جس طرح بنگلورو کے نائس روڈتعمیر کے دوران احتجاج کیاگیا تھا ویسا احتجاج بھٹکل کے عوام نےنہیں کیا نہ ہی قانونی لڑائی لڑی۔
البتہ بعض افراد نے اپنی جائیداد کو بچانے یاپھر اپنی زمین جائیداد کےلئے زائد معاوضہ کی مانگ کی کوشش کے سوا عوام کی طرف سے ابھی تک کوئی بڑے پیمانے پرجدوجہد یا احتجاج نہیں ہواہے۔ چند ایک مقامات پر چھوٹے احتجاجات ہوئے بھی ہیں تو وہ انڈر پاس، بائی پاس تک محدود ہیں جن کو لے کر نیشنل ہائی اتھارٹی یا آئی آر بی کمپنی نے کبھی کئیرہی نہیں کیا۔
بتاتے چلیں کہ گذشتہ 10برسوں میں کسی ایک رکن اسمبلی یا وزیر نے آئی آر بی کی دست درازیوں کے خلاف کبھی کوئی بڑے پیمانے پر جدوجہد نہیں کی ہے۔ ایسی کئی رکاوٹوں کوجھیلنے کے باوجود کسی طرح کی کوئی آواز بلند نہیں ہوئی اورہاٗئی وے سےعوام کو ہورہی پریشانیوں کو سمجھنے کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے آئی آر بی کو برسوں پہلے ہی ٹول فیس وصولی کی منظوری بھی دے ڈالی۔
کروڑوں روپیہ ٹول فیس کے نام پر جمع کیاگیا ہے۔ لیکن اس قومی شاہراہ سے عوام کو نقصان کے بجائے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ انہی حالات کے پیش نظر بھٹکل سے تعلق رکھنے والے اُترکنڑا کے نگراں کاروزیر منکال وئیدیا نے قومی شاہراہ کی بدنظمی اورعوامی برہمی کے پیش نظر ٹول فیس بند کرنے کا انتباہ دیا تھا۔ عوام کو بھی اچھی طرح پتہ ہے کہ ٹول فیس بند کرنا کوئی آسان نہیں ہے۔ لیکن فورلین شاہراہ اس وقت جس حالت میں ہے اس کو قبول کرنےکوئی تیار نہیں ہے۔ قومی شاہراہ کی وباء سے نجات پانے کےلئے کوئی راستہ تلاش کرنا ضروری تھا کیونکہ یہ ایک ناسور بنتا جارہاہے، اسی لئے وزیر موصوف نے ٹول فیس بند کرنے کی بات کہی توعوام بھی اس مطالبہ کے ساتھ آگئے۔ اب نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور آئی آر بی کمپنی کےلئے لازم ہوگیا ہے کہ عوام کی برہمی کا سامنا کرنے کے لئے ان کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ وہ قومی شاہراہ کو بہترکریں، عوامی مطالبات کو پورا کریں۔ اور اگر ایسا کرنا ممکن نہیں ہواتوعوام قانونی کارروائی کی طرف بڑھیں گے اور اگرقانونی کارروائی پوری کرکے ٹول فیس شروع کی جاتی ہے تو پھر آئی آر بی کا نقصان یقینی ہے۔
وزیر کا بیان سیاسی نہیں ہے: ضلع نگراں کار وزیر نے ٹول فیس بند کئے جانے کے متعلق دئیے گئے بیان کی طرح بی جےپی بھی ٹول فیس بند کئے جانے پر زور دے رہی ہے۔جب کہ عوام کو پتہ ہے کہ جب بی جے پی اقتدار میں تھی تو اس وقت خاموش تھی اور اب سیاسی مفاد کے لئے مضحکہ خیز بیان جاری کررہی ہے۔ دوسری طرف جے ڈی ایس اور کانگریس لیڈران نے وزیر کے بیان کی بھر پورحمایت کی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ ضلعی عوام اس معاملے میں مکمل تعاون دیں ۔ یہاں سیاست سے زیادہ ضلعی عوام کے مسائل کا شعور ہونا ضروری ہے۔ وزیر کے بیان کے بعد سوشیل میڈیا پر مختلف نوعیت سے بحث ہورہی ہے۔
پہلے زبان کیوں بند تھی ؟:ضلع نگراں کار وزیر نے ٹول فیس کو بند کرنے کے متعلق جو بیان دیا ہے اس کا پس منظر عوامی فکر کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس سے قبل جب دیش پانڈے ضلع نگراں کار وزیر تھے تو قومی شاہراہ فورلین کا مسئلہ زندہ تھا لیکن دیش پانڈے نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ اب ضلع نگراں کار وزیر نے اس تعلق سے آواز بلند کی ہے تو ضلعی عوام کو چاہئے کہ وہ بھی اپنا تعاون پیش کرتےہوئے فورلین کی ٹھیکیدار کمپنی کی حرص وہوس پر روک لگانے کے لئے آگے آئیں۔